منگل 1 ستمبر 2026 - 23:23
مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ محترمہ سپردِ خاک،علماء و مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی صاحب کی والدۂ محترمہ کی تدفین یکم ستمبر کو رحمت آباد میں عمل میں آئی۔ نمازِ جنازہ اور تدفین میں شہر اور اطراف سے بڑی تعداد میں علماء، شعراء، مومنین و مومنات اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ ہر آنکھ اشک بار اور فضا سوگوار تھی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رحمت آباد-ممبئی/ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی صاحب کی والدۂ محترمہ کی تدفین یکم ستمبر کو رحمت آباد میں عمل میں آئی۔ نمازِ جنازہ اور تدفین میں شہر اور اطراف سے بڑی تعداد میں علماء، شعراء، مومنین و مومنات اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ ہر آنکھ اشک بار اور فضا سوگوار تھی۔

مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ محترمہ سپردِ خاک،علماء و مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت

تدفین سے قبل ایک مجلسِ عزا کا انعقاد کیا گیا۔ تلاوتِ کلامِ الٰہی سے مجلس کا آغاز ہوا، جس کے بعد مرحومہ کے نواسے کمیل رضوی نے سلام پیش کیا۔ بعد ازاں مرحومہ کے چھوٹے فرزند سید محمد باقر نے رضا سرسوی کا معروف کلام ”ماں“ پیش کیا، جبکہ نیر اعظمی نے مرحومہ کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مجلس سے بزرگ خطیب مولانا ظہیر عباس صاحب نے خطاب کیا۔ انہوں نے مرحومہ کی دینداری، خوش اخلاقی اور غیر معمولی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے ان کی دینی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مرحوم مولانا ظفریاب صاحب کی علمی و دینی خدمات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسے علمی و دینی گھرانوں کی خواتین نے خاموشی سے دین کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ محترمہ سپردِ خاک،علماء و مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت

نمازِ جنازہ مرحومہ کے فرزند حجة الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی صاحب نے پڑھائی۔ اس موقع پر غم کی کیفیت نمایاں تھی اور حاضرین نے انتہائی رنج و الم کے ساتھ مرحومہ کو آخری وداع کیا۔

تلقین مولانا عزیز حیدر زیدی صاحب نے پڑھی، جبکہ تدفین سے قبل مولانا یونس حیدر ماہلی صاحب نے پُر درد و پُر سوز انداز و آواز میں سلام پڑھا ۔ اور آخری تلقین حجة الاسلام والمسلمین مولانا سید روح ظفر صاحب نے پڑھی۔ اس موقع پر موجود ہر شخص کی آنکھ اشک بار تھی اور فضا رقت انگیز بنی ہوئی تھی۔

جنازے میں متعدد علمائے کرام، خطباء، شعراء اور دینی شخصیات نے شرکت کی، جن میں حجة الاسلام مولانا سید حسین مہدی حسینی، مولانا ظہیر عباس، حجة الاسلام مولانا سید روح ظفر، حجة الاسلام مولانا عاشق عباس، مولانا جاوید رضا خطیبی، حجة الاسلام مولانا کرار حسین خان، حجة الاسلام مولانا علی باقر زینبی، حجة الاسلام مولانا شاہد پردھان، حجة الاسلام مولانا محمد حسین سورت والا، مولانا وقار، حجة الاسلام مولانا قمر حسن خان شہیدی، حجة الاسلام مولانا نیر عباس مشہدی، حجة الاسلام مولانا نجیب الحسن زیدی، حجة الاسلام مولانا عون محمد نقوی، حجة الاسلام مولانا نیاز علی رضوی بھیک پوری، حجة الاسلام مولانا سید فرمان علی موسوی، مولانا غازی رضا نقوی، حجة الاسلام مولانا ضیغم عباس عابدی، حجة الاسلام مولانا علی عباس رضوی امید اعظمی، حجة الاسلام مولانا یوسف حسین خان، حجة الاسلام مولانا یونس حیدر ماہلی، حجة الاسلام مولانا عادل حسین، حجة الاسلام مولانا غلام عسکری، حجة الاسلام مولانا ذوالفقار حسین کلکتوی، حجة الاسلام مولانا حسن رضا موسوی، حجة الاسلام مولانا عزیز حیدر زیدی، حجة الاسلام مولانا حسن امام زیدی، مولانا شجر عباس اعظمی اور حجة الاسلام مولانا افسر حسین رضوی سمیت دیگر علماء شامل تھے۔

مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ محترمہ سپردِ خاک،علماء و مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت

مرحومہ کی یاد میں مجلسِ سوئم ان شاء اللہ جمعرات، ۳ ستمبر کو بعد نمازِ مغربین مسجد ایرانیان میں منعقد ہوگی، جس سے حجة الاسلام والمسلمین مولانا سید نجیب الحسن زیدی صاحب خطاب فرمائیں گے۔

مرحومہ کی رحلت پر تمام علماء، مومنین و مومنات اور اہلِ خانہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے صدقے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان بالخصوص مولانا سید ابوالقاسم رضوی صاحب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha